حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً دَخَلَ وَخَرَجَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، فَإِذَا مَطَرَتِ السَّمَاءُ سُرِّيَ، فَعَرَّفَتْهُ عَائِشَةُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”وَمَا أَدْرِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ‏: ﴿‏فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ‏﴾ [الأحقاف: 24].“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل دیکھتے تو (پریشان ہو جاتے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے، نکلتے اور آتے جاتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل جاتا، پھر جب آسمان سے بارش برستی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی ختم ہوتی۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی وجہ دریافت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیا معلوم کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح اللہ عز و جل نے فرمایا ہے: «فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ» [الأحقاف: 24] پھر جب انہوں نے بادل اپنی وادیوں کی طرف آتا دیکھا ......

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب بدء الخلق : 3206 و مسلم : 899 و الترمذي : 3257»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
قوم عاد پر عذاب کی صورت یہ تھی کہ ان پر گہرے بادل آئے جسے انہوں نے رحمت سمجھا لیکن ان بادلوں میں عذاب الٰہی تھا۔ اس لیے بادلوں کو آتا دیکھ کر آپ پریشان ہو جاتے کہ کہیں ہم پر بھی عذاب نہ آجائے لیکن جب بارش ہو جاتی تو آپ کی کیفیت ختم ہو جاتی اور آپ خوش ہو جاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بادلوں کو دیکھ کر اللہ کے عذاب سے پناہ طلب کرنی چاہیے اور اس کی رحمت کا سوال کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 908 سے ماخوذ ہے۔