حدیث نمبر: 904
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: قُلْتُ لأَبِي قَتَادَةَ: مَا لَكَ لاَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ عَنْهُ النَّاسُ؟ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيُسَهِّلْ لِجَنْبِهِ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ“، وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ وَيَمْسَحُ الأرْضَ بِيَدِهِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ام اسید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا وجہ ہے کہ آپ دیگر صحابہ کرام کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان نہیں کرتے؟ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اس کو چاہیے کہ اپنے پہلو کی جگہ آگ میں بنا لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ سے زمین کو چھو رہے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ سند ام اسید کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم حدیث:من کذب....صحیح اور متواتر ہے۔
یہ سند ام اسید کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم حدیث:من کذب....صحیح اور متواتر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 904 سے ماخوذ ہے۔