حدیث نمبر: 896
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ مَعْمَرٍ الْعَوْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً معزز بن معزز بن معزز بن معزز یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
انسان کی اپنی اور آباء و اجداد کی شرافت کو حسب کہا جاتا ہے۔ جس میں ہر طرح کی خیر و بھلائی جمع ہو اسے کریم کہتے ہیں۔ خاندانی بزرگی اور شرافت کا انحصار ایمان اور تقویٰ پر ہے، تاہم ایمان اور تقویٰ کے ساتھ کسی کو خاندانی عزت و وقار حاصل ہے تو یہ بہر حال ایک زائد فضیلت ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام جامع الصفات تھے۔
انسان کی اپنی اور آباء و اجداد کی شرافت کو حسب کہا جاتا ہے۔ جس میں ہر طرح کی خیر و بھلائی جمع ہو اسے کریم کہتے ہیں۔ خاندانی بزرگی اور شرافت کا انحصار ایمان اور تقویٰ پر ہے، تاہم ایمان اور تقویٰ کے ساتھ کسی کو خاندانی عزت و وقار حاصل ہے تو یہ بہر حال ایک زائد فضیلت ہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام جامع الصفات تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 896 سے ماخوذ ہے۔