حدیث نمبر: 892
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جس نے کسی اندھے کو صحیح راستے سے بھٹکایا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)معذور لوگوں کو تنگ کرنا کئی افراد کی عادت ہوتی ہے اور وہ اسے اپنی تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ شرعاً ایسا کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ صحیح راستے کی راہنمائی کرنا دخول جنت کا باعث ہے تو غلط راستہ بتانا، خصوصا کسی نابینے کو، اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کا باعث ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ سائن بورڈ جو لوگوں کی راہنمائی کے لیے لگائے جاتے ہیں انہیں توڑنا یا خراب کرنا گناہ کا کام ہے۔ اس سے بسا اوقات بہت بڑے بڑے حادثے ہو جاتے ہیں جس کا وبال ان لوگوں پر بھی پڑتا ہے جو یہ علامتی بورڈ خراب کرتے ہیں۔
(۱)معذور لوگوں کو تنگ کرنا کئی افراد کی عادت ہوتی ہے اور وہ اسے اپنی تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ شرعاً ایسا کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ صحیح راستے کی راہنمائی کرنا دخول جنت کا باعث ہے تو غلط راستہ بتانا، خصوصا کسی نابینے کو، اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کا باعث ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ سائن بورڈ جو لوگوں کی راہنمائی کے لیے لگائے جاتے ہیں انہیں توڑنا یا خراب کرنا گناہ کا کام ہے۔ اس سے بسا اوقات بہت بڑے بڑے حادثے ہو جاتے ہیں جس کا وبال ان لوگوں پر بھی پڑتا ہے جو یہ علامتی بورڈ خراب کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 892 سے ماخوذ ہے۔