الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ التُّؤَدَةِ فِي الأمُورِ باب: تمام معاملات میں سنجیدگی اور وقار اختیار کرنا
حدیث نمبر: 889
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: لَيْسَ بِحَكِيمٍ مَنْ لاَ يُعَاشِرُ بِالْمَعْرُوفِ مَنْ لاَ يَجِدُ مِنْ مُعَاشَرَتِهِ بُدًّا، حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا أَوْ مَخْرَجًا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
محمد ابن الحنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہے بغیر چارہ نہ ہو، ان کے ساتھ اچھے طریقے سے نہ رہنے والا حکیم اور دانا نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ جن کے ساتھ رہنا ضروری ہو، ان کے ساتھ گزارہ کرتا رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راہ نکال دے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جن افراد خانہ، دوست احباب اور خدام وغیرہ کے ساتھ ہر وقت رہنا ہے ان کے ساتھ نہ بھی بنتی ہو تو انسان کو برداشت کرنا چاہیے اور اچھے طریقے سے گزارہ کرنا چاہیے۔ ٹینشن پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک کوئی متبادل صورت نظر نہ آئے آدمی کو خوش دلی سے گزارہ کرنا چاہیے۔ پرسکون زندگی گزارنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ جس کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دو۔
مطلب یہ ہے کہ جن افراد خانہ، دوست احباب اور خدام وغیرہ کے ساتھ ہر وقت رہنا ہے ان کے ساتھ نہ بھی بنتی ہو تو انسان کو برداشت کرنا چاہیے اور اچھے طریقے سے گزارہ کرنا چاہیے۔ ٹینشن پیدا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک کوئی متبادل صورت نظر نہ آئے آدمی کو خوش دلی سے گزارہ کرنا چاہیے۔ پرسکون زندگی گزارنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ جس کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 889 سے ماخوذ ہے۔