الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ التُّؤَدَةِ فِي الأمُورِ باب: تمام معاملات میں سنجیدگی اور وقار اختیار کرنا
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلِيٍّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَنَاجَى أَبِي دُونِي، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي: مَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: ”إِذَا أَرَدْتَ أَمْرًا فَعَلَيْكَ بِالتُّؤَدَةِ حَتَّى يُرِيَكَ اللَّهُ مِنْهُ الْمَخْرَجَ، أَوْ حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَكَ مَخْرَجًا.“بلیّ قبیلے کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ کر میرے والد سے سرگوشی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کیا سرگوشی کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کوئی کام کرنا چاہو تو سنجیدگی اور وقار کے ساتھ کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس کام سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھا دے۔“ یا فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم سنجیدگی، ٹھہراؤ اور وقار کو اختیار کرنا دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔