الادب المفرد
كتاب الكلام— كتاب الكلام
بَابُ السُّخْرِيَةِ، وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ: ﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ﴾ [الحجرات: 11] باب: کسی کا مذاق اڑانا اور ارشادِ باری تعالیٰ : ”کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے“ کا بیان
حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَرَّ رَجُلٌ مُصَابٌ عَلَى نِسْوَةٍ، فَتَضَاحَكْنَ بِهِ يَسْخَرْنَ، فَأُصِيبَ بَعْضُهُنَّ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک مصیبت زدہ آدمی کچھ عورتوں کے پاس سے گزرا، وہ اس پر ہنسیں اور اس کا مذاق اڑایا تو ان میں سے بعض عورتیں اسی مصیبت کا شکار ہو گئیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کسی کا مذاق اڑانا باعث پکڑ ہوسکتا ہے اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم کسی کا مذاق اڑانا باعث پکڑ ہوسکتا ہے اس لیے اس سے گریز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 887 سے ماخوذ ہے۔