حدیث نمبر: 881
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ كَثِيرٍ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلاَنَ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَجُلَيْنِ يَرْمِيَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أسَبْتَ، فَقَالَ عُمَرُ: سُوءُ اللَّحْنِ أَشَدُّ مِنْ سُوءِ الرَّمْيِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبدالرحمٰن بن عجلان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: أسبت، یعنی تو نے ٹھیک کیا (حالانکہ یہ أَصَبْتَ ہے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تلفظ کی غلطی تیر اندازی کی غلطی سے بری ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبدالرحمن بن عجلان راوی مجہول ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبدالرحمن بن عجلان راوی مجہول ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 881 سے ماخوذ ہے۔