حدیث نمبر: 880
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضْرِبُ وَلَدَهُ عَلَى اللَّحْنِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹے کو غلط پڑھنے پر مارا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مخارج کی غلطی کو لحن کہتے ہیں۔ بچوں کو تلفظ وغیرہ کی غلط ادائیگی پر تادیبی سزا دی جاسکتی ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ صحابہ قرآن مجید کی تعلیم کا کس قدر اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
مخارج کی غلطی کو لحن کہتے ہیں۔ بچوں کو تلفظ وغیرہ کی غلط ادائیگی پر تادیبی سزا دی جاسکتی ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ صحابہ قرآن مجید کی تعلیم کا کس قدر اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 880 سے ماخوذ ہے۔