حدیث نمبر: 868
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ الأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ حَدَّثَهُ قَالَ‏:‏ كُنْتُ شَاعِرًا فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، امْتَدَحْتُ رَبِّي، فَقَالَ‏:‏ ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ“، وَمَا اسْتَزَادَنِي عَلَى ذَلِكَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں شاعر تھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے (شعروں میں) اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، بلاشبہ تیرا رب حمد کو پسند کرتا ہے।“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ مجھے کچھ نہ فرمایا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الشعر / حدیث: 868
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أنظر الحديث رقم : 859»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح عام کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کی جاتی ہے اسی طرح شعروں میں بھی کرنا جائز ہے کیونکہ شعر بھی کلام ہی کا حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 868 سے ماخوذ ہے۔