الادب المفرد
كتاب الشعر— كتاب الشعر
بَابُ الشِّعْرُ حَسَنٌ كَحَسَنِ الْكَلَامِ وَمِنْهُ قَبِيحٌ باب: اچھے اور برے کلام کی طرح شعر بھی اچھے برے ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنْ شِعْرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ: ”وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ کے شعروں میں سے بطور مثل پڑھا کرتے تھے: ”تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے تیار نہیں کیا ہوگا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ شعر طرفہ بن عبد کا ہے جو ابن رواحہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس میں مستقبل کی صورت حال کی عکاسی ہے کہ عنقریب ایسے حالات آجائیں گے کہ انسان کے پاس اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی خبریں آئیں گی۔ یہ حقیقت کے بہت قریب ہے اس لیے آپ یہ بیان کرتے تھے۔
یہ شعر طرفہ بن عبد کا ہے جو ابن رواحہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس میں مستقبل کی صورت حال کی عکاسی ہے کہ عنقریب ایسے حالات آجائیں گے کہ انسان کے پاس اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی خبریں آئیں گی۔ یہ حقیقت کے بہت قریب ہے اس لیے آپ یہ بیان کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 867 سے ماخوذ ہے۔