حدیث نمبر: 863
وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ‏:‏ لاَ تَسُبَّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: انہیں برا بھلا مت کہو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (شعروں سے) دفاع کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الشعر / حدیث: 863
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب : 6150 و مسلم : 2487»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدہ عائشہ پر بہتان لگانے والوں میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ بھی تھے اس لیے سیدنا عروہ رحمہ اللہ نے انہیں برا بھلا کہا تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے روک دیا کہ اس کی سزا انہیں مل چکی ہے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 863 سے ماخوذ ہے۔