حدیث نمبر: 861
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ شَاعِرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ‏:‏ أَلاَ أُنْشِدُكَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِهَا رَبِّي‏؟‏ قَالَ‏: ”إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْمَحَامِدَ“، وَلَمْ يَزِدْنِي عَلَيْهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں شاعر تھا، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے کہا: کیا میں آپ کو شعر نہ سناؤں جن کے ساتھ میں نے اپنے رب کی حمد بیان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تیرا رب تعریفوں کو پسند کرتا ہے۔“ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ فرمایا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الشعر / حدیث: 861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه النسائي فى الكبرىٰ : 159/7 و الطبراني فى الكبير : 282/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دیکھیے حدیث:۸۵۹ کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 861 سے ماخوذ ہے۔