الادب المفرد
كتاب الشعر— كتاب الشعر
بَابُ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةٌ باب: بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہاں تک کہ وہ اس کے پیٹ کو خراب کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ اچھے شعر پڑھنے اور یاد کرنے جائز ہیں لیکن انہیں مشغلہ بنا لینا، اس طرح کہ قرآن و حدیث کی تعلیم اور ذکر الٰہی سے انسان دور ہو جائے، یہ جائز نہیں ہے خواہ اچھے شعر ہی کیوں نہ ہوں۔ مبنی برحکمت اشعار بھی ایک حد تک ہونے چاہئیں کیونکہ قرآن و حدیث سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ حد سے تجاوز اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں ہے۔
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ اچھے شعر پڑھنے اور یاد کرنے جائز ہیں لیکن انہیں مشغلہ بنا لینا، اس طرح کہ قرآن و حدیث کی تعلیم اور ذکر الٰہی سے انسان دور ہو جائے، یہ جائز نہیں ہے خواہ اچھے شعر ہی کیوں نہ ہوں۔ مبنی برحکمت اشعار بھی ایک حد تک ہونے چاہئیں کیونکہ قرآن و حدیث سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ حد سے تجاوز اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 860 سے ماخوذ ہے۔