حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ‏:‏ قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي مَدَحْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحَامِدَ، قَالَ‏: ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ“، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَى ذَلِكَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے رب کی تعریف میں چند کلمے کہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تیرا رب تعریف کو پسند کرتا ہے۔“ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الشعر / حدیث: 859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه أحمد : 15586 و النسائي فى الكبريٰ : 159/7 - انظر الصحيحة : 3179»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اگر اشعار میں کی جائے تو یہ بھی جائز ہے اور ایسے اشعار مبنی برحکمت ہوں گے۔ آپ کا نہ روکنا اس بات کی دلیل ہے کہ حمدوثنا پر مشتمل اشعار پڑھنے جائز ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 859 سے ماخوذ ہے۔