حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ مُطَرِّفًا قَالَ‏:‏ صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْبَصْرَةِ، فَقَلَّ مَنْزِلٌ يَنْزِلُهُ إِلاَّ وَهُوَ يُنْشِدُنِي شِعْرًا، وَقَالَ‏:‏ إِنَّ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

مطرف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے کوفہ سے بصرہ تک سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا۔ وہ جہاں بھی پڑاؤ کرتے مجھے شعر سناتے، اور انہوں نے فرمایا: تعريض (توریے) میں جھوٹ سے بچنے کا طریقہ ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الشعر / حدیث: 857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا : أخرجه ابن أبى شيبة : 26096 و الطحاوي فى المشكل : 370/7 و الطبراني فى الكبير : 106/18 و الخرائطي فى مساوي الأخلاق : 166 - أنظر الضعيفة : 1094»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مطلب یہ ہے کہ اشعار میں بھی انسان توریے سے کام لے لیتا ہے اور صریح جھوٹ سے بچ جاتا ہے۔ اس لیے ایسے اشعار جائز ہیں۔
(۲) تعریض اور توریے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے الفاظ استعمال کریں جو کئی معانی پر دلالت کرتے ہوں۔ فریق ثانی جو مفہوم سمجھے آپ کے دل میں اس کے برعکس ہو، مثلاً آپ کسی شخص کو دعا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے لیے دعا کر رہا ہے تو اس کے کسی دوست کو جو وقتی طور رپ اس سے ناراض ہے، کہتے ہیں کہ میں نے فلاں کو دیکھا وہ تیرے لیے دعا کر رہا تھا۔ آپ نے تمام مسلمانوں میں اس کو شامل کر لیا حالانکہ وہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے میرا نام لے کر میرے لیے دعا کی ہے۔ یاد رہے کہ تعریض اور توریہ شدید ضرورت کے وقت ہے۔
(۳) احکامِ شریعت اور حقوق العباد وغیرہ میں وہی بات معتبر ہوگی جو فریق ثانی سمجھ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 857 سے ماخوذ ہے۔