حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ يَا نَبِيَّ اللهِ، أَلاَ تُكَنِّينِي‏؟‏ فَقَالَ‏: ”اكْتَنِي بِابْنِكِ“، يَعْنِي‏:‏ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَكَانَتْ تُكَنَّى‏: أُمَّ عَبْدِ اللهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے نبی! آپ میری کنیت نہیں رکھ دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیٹے یعنی عبداللہ بن زبیر کے نام پر کنیت رکھ لو۔“ چنانچہ انہیں ام عبداللہ کہا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الكنية / حدیث: 851
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه ابن سعد فى الطبقات : 152/8 و رواه ابن ماجه نحوه : 3739»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی کنیت رکھنا جائز ہے، نیز بھانجا بھی بیٹے کے قائم مقام ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ اسماء کے فرزند تھے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 851 سے ماخوذ ہے۔