الادب المفرد
كتاب الكنية— كتاب الكنية
بَابُ الْكُنْيَةِ قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لَهُ باب: اولاد کی پیدائش سے پہلے اپنی کنیت رکھنا
حدیث نمبر: 849
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كَنَّانِي عَبْدُ اللهِ قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لِي.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے ہاں اولاد پیدا ہونے سے پہلے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے میری کنیت رکھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی پیدائش سے پہلے بھی کنیت رکھنا جائز ہے۔ ضروری نہیں کہ صرف وہی شخص کنیت رکھے جس کی اولاد ہو بلکہ بے اولاد شخص بھی کنیت رکھ سکتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی پیدائش سے پہلے بھی کنیت رکھنا جائز ہے۔ ضروری نہیں کہ صرف وہی شخص کنیت رکھے جس کی اولاد ہو بلکہ بے اولاد شخص بھی کنیت رکھ سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 849 سے ماخوذ ہے۔