حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”تَسَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تُكَنُّوا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، بلا شبہ میں ہی ابو القاسم ہوں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأسماء / حدیث: 836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب : 6188 و مسلم : 2134 و أبوداؤد : 4965 و الترمذي : 2841 و ابن ماجه : 3735»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس مسئلے میں اختلاف ہے راجح بات یہ ہے کہ یہ ممانعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ خاص تھی تاکہ آپ کے ساتھ اشتباہ پیدا نہ ہو جیسا کہ آئندہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک صحابی نے کسی شخص کو بلایا جس کی کنیت ابوالقاسم تھی تو آپ نے سمجھا کہ مجھے بلایا ہے۔ اب جب یہ وجہ ختم ہوچکی ہے تو نام اور کنیت دونوں یا الگ الگ رکھنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 836 سے ماخوذ ہے۔