حدیث نمبر: 83
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ أَبِي الرَّوَّاعِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ‏:‏ أَنَّ رَجُلاً كَانَ عِنْدَهُ، وَلَهُ بَنَاتٌ فَتَمَنَّى مَوْتَهُنَّ، فَغَضِبَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ‏:‏ أَنْتَ تَرْزُقُهُنَّ‏؟۔
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے ہاں ایک شخص تھا جس کی بیٹیاں تھیں، اس نے ان کے مر جانے کی خواہش کی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غضبناک ہو گئے اور فرمایا: تم انہیں رزق دیتے ہو؟

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 83
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابو الرواع کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، تاہم بیٹیوں سے نفرت اور کراہت کافرانہ سوچ ہے۔ بیٹیوں کی پرورش گو آسان نہیں لیکن صبر و تحمل سے ان کی پرورش کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 83 سے ماخوذ ہے۔