حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: شِهَابٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”بَلْ أَنْتَ هِشَامٌ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر ہوا جسے شہاب کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم ہشام ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت سے معلوم ہوا کہ شہاب نام رکھنا ناپسندیدہ ہے۔ شہاب رات کو گرنے والے ستاروں کو کہتے ہیں اور در حقیقت اس سے مراد جہنم کا شعلہ ہے اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ شہاب نام رکھنا ناپسندیدہ ہے۔ شہاب رات کو گرنے والے ستاروں کو کہتے ہیں اور در حقیقت اس سے مراد جہنم کا شعلہ ہے اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 825 سے ماخوذ ہے۔