حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ غَيْرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ‏: ”أَنْتِ جَمِيلَةُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا اور فرمایا: ”تم جمیلہ ہو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأسماء / حدیث: 820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الأدب : 2139 و أبوداؤد : 4952 و الترمذي : 2838 و ابن ماجه : 3733»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ عاصیہ کون تھی اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹی تھی۔ بعض نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کہا ہے اور بعض کے نزدیک یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ثابت کی بیٹی تھی۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 820 سے ماخوذ ہے۔