حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي جَدِّي حَنْظَلَةُ بْنُ حِذْيَمَ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْعَى الرَّجُلُ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ، وَأَحَبِّ كُنَاهُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی کو اس کے سب سے زیادہ پسندیدہ نام اور سب سے زیادہ پسندیدہ کنیت سے بلایا جائے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأسماء / حدیث: 819
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : الضعيفة : 4280 - أخرجه الطبراني فى الكبير : 13/4»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تاہم اگر کسی کا ایسا نام معروف ہو جائے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اسے اس نام سے پکارنے کی بجائے دوسرے نام سے بلانا چاہیے جسے وہ پسند کرتا ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 819 سے ماخوذ ہے۔