حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمْلُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”مَنْ يَسُوقُ إِبِلَنَا هَذِهِ‏؟“‏ أَوْ قَالَ‏:‏ ”مَنْ يُبَلِّغُ إِبِلَنَا هَذِهِ‏؟“‏ قَالَ رَجُلٌ‏:‏ أَنَا، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ فُلاَنٌ، قَالَ‏:‏ ”اجْلِسْ“، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ فُلاَنٌ، فقَالَ‏:‏ ”اجْلِسْ“، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا اسْمُكَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ نَاجِيَةُ، قَالَ‏:‏ ”أَنْتَ لَهَا، فَسُقْهَا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے یہ اونٹ کون ہانکے گا؟“ یا فرمایا: ”ہمارے ان اونٹوں کو کون پہنچائے گا؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: میں یہ خدمت سر انجام دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: فلاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر ایک اور شخص اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: فلاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: میرا نام ناجیہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کام کے لیے ہو، تم ان اونٹوں کو لے جاؤ۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأسماء / حدیث: 812
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه ابن أبى عاصم فى الآحاد : 2370 و الروياني فى مسنده : 1479 و الطبراني فى الكبير : 353/22 و الحاكم : 276/4 - انظر الضعيفة : 4804»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم اچھے نام سے نیک شگون لینا صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر سہیل بن عمرو کی آمد سے اچھا شگون لیا تھا اور سہیل کے نام کی مناسبت سے فرمایا تھا کہ ’’اب تمہارے لیے معاملہ آسان کر دیا گیا‘‘۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 812 سے ماخوذ ہے۔