الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ فَضْلِ مَنْ عَالَ ابْنَتَهُ الْمَرْدُودَةَ باب: گھر واپس آجانے والی (طلاق یافتہ) بیٹی کی کفالت کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 81
حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَا سُرَاقَةُ“ مِثْلَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
علی بن رباح سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سراقہ“، پھر مذکور حدیث کی طرح بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان دونوں روایتوں کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الادب المفرد میں ذکر کیا ہے تاہم بیٹی اگر ضرورت مند ہو تو اس پر خرچ کرنا دیگر لوگوں پر خرچ کرنے سے افضل ہے کیونکہ اس میں صدقے کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔
ان دونوں روایتوں کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الادب المفرد میں ذکر کیا ہے تاہم بیٹی اگر ضرورت مند ہو تو اس پر خرچ کرنا دیگر لوگوں پر خرچ کرنے سے افضل ہے کیونکہ اس میں صدقے کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 81 سے ماخوذ ہے۔