الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى اللُّقْمَةُ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ باب: ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے حتی کہ بیوی کے منہ میں لقمہ دینے میں بھی اجر ہے
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسَعْدٍ: ”إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فَمِ امْرَأَتِكَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اللہ عز و جل کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جو بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں ضرور اجر ملے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے گا اس پر بھی اجر ملے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بیوی کے نان و نفقہ کو پورا کرنا خاوند پر فرض ہے اور فرض کی ادائیگی پر اجر ملتا ہے اور جب اس سے مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو تو اجر مزید بڑھ جاتا ہے۔ بیوی کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ اسے کھلانے پلانے میں شہوت کا عنصر بھی آتا ہے لیکن اگر مقصد رضا الٰہی ہو تو بھی اجر ضرور ملتا ہے۔
بیوی کے نان و نفقہ کو پورا کرنا خاوند پر فرض ہے اور فرض کی ادائیگی پر اجر ملتا ہے اور جب اس سے مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہو تو اجر مزید بڑھ جاتا ہے۔ بیوی کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ اسے کھلانے پلانے میں شہوت کا عنصر بھی آتا ہے لیکن اگر مقصد رضا الٰہی ہو تو بھی اجر ضرور ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 752 سے ماخوذ ہے۔