حدیث نمبر: 748
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ دِينَارٍ أَنْفَقَهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقَهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقَهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ“، قَالَ أَبُو قِلابَةَ : وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ، ”وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اور وہ دینار جو اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے، اور وہ دینار جو اپنی سواری پر اللہ کی راہ میں خرچ کرے ......“ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیال سے ابتدا کی ...... ”اور اس شخص سے بڑے اجر والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بے نیاز کردے؟“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)بیوی بچوں پر خرچ کرنا انسان کے فرائض میں شامل ہے اس کے باوجود اس پر نہ صرف اجر ملتا ہے بلکہ یہ افضل ترین صدقہ ہے۔ تاہم اس میں شرط یہ ہے کہ انسان فرائض کی سبکدوشی کے ساتھ ساتھ ثواب کی نیت رکھے۔
(۲) بیوی بچوں پر خرچ کرنا جہاں افضل ترین صدقہ ہے وہیں اس ذمہ داری سے غفلت شدید گناہ بھی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ((کَفي بِالْمَرْءِ اِثْمًا أنْ یُضَیِّعَ مَنْ یَقُوتُ))(سنن أبي داود، الزکاة، حدیث:۱۴۴۲)
’’آدمی کے گناہ کار ہونے کے لیے یہی کافى ہے کہ وہ انہیں ضائع کر دے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے۔‘‘
(۱)بیوی بچوں پر خرچ کرنا انسان کے فرائض میں شامل ہے اس کے باوجود اس پر نہ صرف اجر ملتا ہے بلکہ یہ افضل ترین صدقہ ہے۔ تاہم اس میں شرط یہ ہے کہ انسان فرائض کی سبکدوشی کے ساتھ ساتھ ثواب کی نیت رکھے۔
(۲) بیوی بچوں پر خرچ کرنا جہاں افضل ترین صدقہ ہے وہیں اس ذمہ داری سے غفلت شدید گناہ بھی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ((کَفي بِالْمَرْءِ اِثْمًا أنْ یُضَیِّعَ مَنْ یَقُوتُ))(سنن أبي داود، الزکاة، حدیث:۱۴۴۲)
’’آدمی کے گناہ کار ہونے کے لیے یہی کافى ہے کہ وہ انہیں ضائع کر دے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 748 سے ماخوذ ہے۔