الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا أَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا باب: جب مہمان میزبانی سے محروم رہ جائے تو کیا کرے
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلا يَقْرُونَا ، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَنَا : ”إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں کسی قوم کے پاس بھیجتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمانی نہ کریں تو آپ اس معاملے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ تمہیں کوئی ایسی چیز پیش کریں جو مہمان کے لیے مناسب ہے تو اسے قبول کر لو، اور اگر وہ مہمانی نہ کریں تو ان کے مناسب حال مہمانی کا حق ان سے لے لو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اگر کسی کو میزبانی کے وسائل مہیا نہ ہوں تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوں گے، البتہ وسائل کے باوجود کوئی مہمان نوازی نہ کرے تو یہ حق زبردستی بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔
اگر کسی کو میزبانی کے وسائل مہیا نہ ہوں تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوں گے، البتہ وسائل کے باوجود کوئی مہمان نوازی نہ کرے تو یہ حق زبردستی بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 745 سے ماخوذ ہے۔