حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضیافت تین دن تک ہے، اور جو اس کے بعد ہو، وہ صدقہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی تین دن کے بعد مہمان نوازی سے معذرت کرے تو گناہ نہیں ہوگا، تاہم اگر وہ خوشی سے مزید کھلاتا ہے تو اس کی مرضی ہے، منع نہیں بلکہ وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی تین دن کے بعد مہمان نوازی سے معذرت کرے تو گناہ نہیں ہوگا، تاہم اگر وہ خوشی سے مزید کھلاتا ہے تو اس کی مرضی ہے، منع نہیں بلکہ وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوگا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 742 سے ماخوذ ہے۔