حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ اللَّيْثِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ‏:‏ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ‏:‏ مِمَّنْ أَنْتَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ مِنْ تَيْمِ تَمِيمٍ، قَالَ‏:‏ مِنْ أَنْفُسِهِمْ أَوْ مِنْ مَوَالِيهِمْ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ مِنْ مَوَالِيهِمْ، قَالَ‏:‏ فَهَلاَّ قُلْتَ‏:‏ مِنْ مَوَالِيهِمْ إِذًا‏؟‏‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

عبدالرحمن بن حبیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے دریافت کیا: تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے؟ میں نے کہا: بنو تمیم کے خاندان تیم سے۔ انہوں نے فرمایا: خود ان سے یا ان کے آزاد کردہ سے؟ میں نے کہا: ان کے آزاد کردہ سے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں ان (بنو تمیم) کا آزاد کردہ ہوں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب موالي / حدیث: 74
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن حبیب کے مجہول ہونے کی بنا پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۲) آزاد کردہ غلام اپنی نسبت آزاد کرنے والے کی طرف کرسکتا اور اس کا شمار بھی انہی میں ہوگا جیسا کہ آئندہ باب اورحدیث سے ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 74 سے ماخوذ ہے۔