حدیث نمبر: 736
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، يَسِيرُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَمَرَّ عَلَى بَغْلٍ مَيِّتٍ قَدِ انْتَفَخَ ، فَقَالَ : ”وَاللَّهِ ، لأَنْ يَأْكُلَ أَحَدُكُمْ هَذَا حَتَّى يَمْلأَ بَطْنَهُ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ مُسْلِمٍ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک مردہ خچر کے پاس سے ان کا گزر ہوا جو (زیادہ دیر مردہ حالت میں پڑا رہنے کی وجہ سے) پھول چکا تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم تم میں سے کوئی یہ کھائے یہاں تک کہ اپنا پیٹ بھر لے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ مسلمان کا گوشت کھائے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه ابن أبى شيبة : 25537 و وكيع فى الزهد : 433 و ابن أبى الدنيا فى ذم الغيبه : 39 و هناد فى الزهد : 563/2»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ تم جس طرح اس کے گوشت کے قریب جانا پسند نہیں کرو گے اسی طرح تمہیں مسلمان کی غیبت سے بھی نفرت کرنی چاہیے کیونکہ انسانی گوشت اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 736 سے ماخوذ ہے۔