حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ مُنْتِنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ اغْتَابُوا أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَبُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِذَلِكَ .“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سفیان بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بدبودار ہوا پھوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ منافق لوگوں نے کچھ مسلمانوں کی غیبت کی ہے تو اس وجہ سے یہ ہوا بھیجی گئی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
جب ایک منافق کا غیبت کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے ماحول بدبودار ہو جاتا ہے تو مسلمان کے لیے یہ کتنا بڑا جرم ہوگا؟
جب ایک منافق کا غیبت کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس سے ماحول بدبودار ہو جاتا ہے تو مسلمان کے لیے یہ کتنا بڑا جرم ہوگا؟
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 733 سے ماخوذ ہے۔