الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ تَعَوَّذَ مِنْ جَهْدِ الْبَلاءِ باب: سخت مصیبت سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلاءِ ، وَدَرْكِ الشَّقَاءِ ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ .ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت مصیبت سے، بدبختی کے پا لینے سے، دشمنوں کی خوشی سے، اور برے فیصلے سے پناہ مانگتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)درجات کی بلندی کے لیے آزمائش کا سوال نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ گزشتہ حدیث میں گزرا ہے، تاہم سیدنا عبداللہ بن عمرو کا موقف تھا کہ سخت مصیبت سے پناہ طلب کرتے وقت ایسی مصیبت کا استثنیٰ کرنا چاہیے جو درجات کی بلندی کا باعث بنے۔ لیکن یہ بہت حوصلے اور عزم کا کام ہے۔
(۲) اگر مصیبت آجائے تو پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اسے درجات کی بلندی کا باعث بنا دے۔ باقی امور کی وضاحت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔ (دیکھیے، حدیث:۶۶۹)
(۱)درجات کی بلندی کے لیے آزمائش کا سوال نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ گزشتہ حدیث میں گزرا ہے، تاہم سیدنا عبداللہ بن عمرو کا موقف تھا کہ سخت مصیبت سے پناہ طلب کرتے وقت ایسی مصیبت کا استثنیٰ کرنا چاہیے جو درجات کی بلندی کا باعث بنے۔ لیکن یہ بہت حوصلے اور عزم کا کام ہے۔
(۲) اگر مصیبت آجائے تو پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اسے درجات کی بلندی کا باعث بنا دے۔ باقی امور کی وضاحت گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔ (دیکھیے، حدیث:۶۶۹)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 730 سے ماخوذ ہے۔