حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، عَنِ اللَّجْلاجِ ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ ، قَالَ : ”هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟“ قَالَ : ”تَمَامُ النِّعْمَةِ دُخُولُ الْجَنَّةِ ، وَالْفَوْزُ مِنَ النَّارِ“، ثُمَّ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ ، قَالَ : ”قَدْ سَأَلْتَ رَبَّكَ الْبَلاءَ ، فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ“، وَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَقُولُ : يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ ، قَالَ : ”سَلْ“.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے پوری نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو پوری نعمت کیا ہے؟“ اس نے کہا: پوری نعمت یہ ہے کہ بندہ جنت میں داخل ہو جائے اور دوزخ سے بچ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے رب سے مصیبت کا سوال کیا ہے، اس کے بجائے عافیت کا سوال کرو۔“ ایک اور شخص کے پاس سے گزرے جو کہہ رہا تھا: اے بزرگی و اکرام والے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے کچھ مانگو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه الترمذي ، كتاب الدعوات : 3527 - انظر الضعيفة : 3416»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔