حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ ، فَلا تَسُبُّوهَا ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت اور عذاب کے ساتھ آتی ہے، لہٰذا اسے برا بھلا مت کہو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کے خیر کا سوال کرو، اور اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب : 5097 و النسائي فى الكبرىٰ : 10702 و ابن ماجه : 3727»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)پہلی حدیث بظاہر موقوف ہے لیکن مرفوعاً بھی ثابت ہے جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ میں تفصیل ذکر کی ہے۔ (الصحیحة للالباني، ح:۲۷۵۶)
(۲) ریح کو ریح کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بندوں کو آرام پہنچاتی ہے لیکن بسا اوقات اپنی شدت اور گرمی کی وجہ سے اذیت اور عذاب بھی بن جاتی ہے اس لیے ناپسندیدہ صورت میں اسے برا بھلا کہنے کی بجائے اس کے شر سے پناہ طلب کرنی چاہیے۔
(۳) ہوا اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی مامور ہے۔ جیسے اس کو حکم ہوتا ہے ایسے چلتی ہے، اس لیے اسے برا کہنا، مثلاً ’’ہوا کا بیڑہ غرق ہو‘‘ ہوا کا ستیا ناس ہو، وغیرہ اس ذات کو برا کہنا ہے جس نے اس کو حکم دیا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 720 سے ماخوذ ہے۔