حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : كَانَ إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ ، يَقُولُ : ”اللَّهُمَّ لاقِحًا ، لا عَقِيمًا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے: ”اے اللہ! اس کو بارش لانے والی بنا، بانجھ اور بے فائدہ نہ بنا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بعض ہوائیں بارشوں کی خوشخبری لے کر آتی ہیں اور مینہ برستا ہے۔ اور بسا اوقات یہی ہوا آندھی کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور نقصان کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ نے ہوا کے نفع بخش ہونے کی دعا کی ہے۔
بعض ہوائیں بارشوں کی خوشخبری لے کر آتی ہیں اور مینہ برستا ہے۔ اور بسا اوقات یہی ہوا آندھی کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور نقصان کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ نے ہوا کے نفع بخش ہونے کی دعا کی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 718 سے ماخوذ ہے۔