حدیث نمبر: 714
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ“، ثُمَّ قَرَأَ : ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر : 60].ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ» [غافر: 60] ”مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)دعا حقیقی عبادت ہے کیونکہ اس میں انسان اللہ کی طرف مکمل توجہ کرتا ہے اور اس کے علاوہ سب سے امید ختم کرکے ان سے اعراض کرلیتا ہے، نیز بندہ اپنے فقر و احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار کرتا ہے اور یہی عبادت کی اعلیٰ قسم ہے۔ (شرح صحیح الأدب المفرد)
(۲) آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے اور مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کریمہ میں ’’عبادتی‘‘ سے مراد دعا ہے۔
(۱)دعا حقیقی عبادت ہے کیونکہ اس میں انسان اللہ کی طرف مکمل توجہ کرتا ہے اور اس کے علاوہ سب سے امید ختم کرکے ان سے اعراض کرلیتا ہے، نیز بندہ اپنے فقر و احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار کرتا ہے اور یہی عبادت کی اعلیٰ قسم ہے۔ (شرح صحیح الأدب المفرد)
(۲) آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے اور مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کریمہ میں ’’عبادتی‘‘ سے مراد دعا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 714 سے ماخوذ ہے۔