حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ : ”لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ، اللَّهُمَّ اصْرِفْ شَرَّهُ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے چینی کے وقت یہ دعا کرتے: ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ نہایت عظمت والا اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ رب ہے عرش عظیم کا۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ آسمان و زمین کا رب ہے اور رب ہے عرش کریم کا۔ اے اللہ! مجھ سے اس بے چینی کا شر دور کر دے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الدعوات : 6346 و مسلم : 2730 و الترمذي : 3435 و ابن ماجه : 3883»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مسلمان کو قرار اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہی ملتا ہے۔ وہ ذات باری کے سوا کچھ نہیں اس لیے اسے پریشانی اور بے چینی کے وقت اسی ذات کا سہارا لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 702 سے ماخوذ ہے۔