حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لأَبِيهِ : يَا أَبَتِ ، إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ : ”اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي ، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي ، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“، تُعِيدُهَا ثَلاثًا حِينَ تُمْسِي ، وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاثًا ، وَتَقُولُ : ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“، تُعِيدُهَا ثَلاثًا حِينَ تُمْسِي ، وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلاثًا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، يَا بُنَيَّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِهِنَّ ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ . ¤ قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ : اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، وَلا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، لا إِلَهَ أَلا أَنْتَ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابا جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں: ”اے اللہ! مجھے میرے بدن میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری قوت سماعت میں عافیت دے۔ اے اللہ! مجھے میری بصارت میں عافیت دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ آپ یہ کلمات تین مرتبہ صبح و شام کہتے ہیں اور کہتے ہیں: ”اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ آپ یہ کلمات بھی صبح و شام تین تین مرتبہ کہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات کہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے چینی میں مبتلا پریشان شخص کی دعا یہ ہے: اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں۔ مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرنا، اور میرے ہر حال کو درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب : 5090 و النسائي : 1347 ، مختصرًا»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)پہلی دعا صبح و شام کے اذکار میں ہے جس میں جسم کے دو اہم اعضاء کی سلامتی اور کار آمد رہنے کی دعا کی گئی ہے کیونکہ عقلی اور نقلی دلائل کو سمجھنے کا تعلق انہی دونوں اعضاء سے ہے۔ دوسری دعا میں کفر اور فقر نیز عذاب سے پناہ مانگی گئی کیونکہ مسلمان کی پناہ گاہ صرف ذات باری تعالیٰ ہے۔ فقر اور کفر کو ایک ساتھ ذکر اس لیے کیا کہ بسا اوقات فقر انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔
(۲) مذکورہ اذکار کو صبح و شام باقاعدگی سے تین تین بار پڑھنا مسنون ہے۔ نیز اس سے اتباع سنت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
(۳) مضطرب اور پریشان حال کی دعا اس سے پہلے بھی گزری ہے۔ یہ دونوں دعائیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس کا ادب یہ ہے کہ انسان اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرکے اللہ کی رحمت کا امیدوار بنے۔
(۴) اس سے توحید باری تعالیٰ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دعا کے آخری میں توحید باری تعالیٰ کا اقرار ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 701 سے ماخوذ ہے۔