الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دَعَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَصَلَّى فَقَضَى صَلاتَهُ ، يُثْنِي عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ يَكُونُ فِي آخِرِ كَلامِهِ : ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي ، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي سَمْعِي ، وَاجْعَلْ لِي نُورًا فِي بَصَرِي ، وَاجْعَلْ لِي نُورًا عَنْ يَمِينِي ، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي ، وَاجْعَلْ لِي نُورًا مِنْ بَيْنَ يَدَيَّ ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي ، وَزِدْنِي نُورًا ، وَزِدْنِي نُورًا ، وَزِدْنِي نُورًا .“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے تو نماز پوری کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرتے، ایسی ثنا جو اس کی ذات کے لائق ہے، پھر آخر میں یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! میرے لیے میرے دل میں نور پیدا کر دے، میرے کانوں میں نور کر دے، میری آنکھوں میں نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، اور میرے لیے نور زیادہ کر دے، میرے لیے نور زیادہ کر دے، میرے نور میں اضافہ فرما۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دیکھیے گزشتہ حدیث کے فوائد۔
دیکھیے گزشتہ حدیث کے فوائد۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 696 سے ماخوذ ہے۔