الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دَعَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ ، قَالَ : ”غُفْرَانَكَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے نکلتے تو پڑھتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مسلمان کی زبان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے لیکن قضائے حاجت والی جگہ اور کیفیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر درست اور مناسب نہیں اس لیے غفلت میں گزرے ان لمحات کی معافي طلب کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ بیت الخلا سے فارغ ہوکر اللہ تعالیٰ سے کوتاہی کی معافي مانگی جائے۔
مسلمان کی زبان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے لیکن قضائے حاجت والی جگہ اور کیفیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر درست اور مناسب نہیں اس لیے غفلت میں گزرے ان لمحات کی معافي طلب کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے کہ بیت الخلا سے فارغ ہوکر اللہ تعالیٰ سے کوتاہی کی معافي مانگی جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 693 سے ماخوذ ہے۔