حدیث نمبر: 683
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، وَيَزِيدَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : ”اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت سے یہ دعا ہوتی تھی: ”اے اللہ! اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الترمذي ، كتاب القدر : 2140 و ابن ماجه : 3834 - انظر ظلال الجنة : 225»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:اللہ کے رسول آپ اس قدر کثرت سے یہ دعا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، چنانچہ وہ جس کا دل چاہتا حق پر قائم رکھتا ہے اور جس کا چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ (صحیح ترمذي، ح:۲۷۹۲)
اس لیے ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی اور خاتمہ بالایمان کی دعا کرنی چاہیے۔ قرآن مجید کی دعا:ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اِذ هدیتنا وهب لنا من لدنک رحمة....کثرت سے پڑھنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 683 سے ماخوذ ہے۔