حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں تجھ سے مسیح دجال کے فتنے سے پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تجھ سے آگ کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح : انظر الحديث ، رقم : 656»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مسیح دجال کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ آگ کے فتنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے فتنے سے پناہ دے جس کی وجہ سے میں آگ میں چلا جاؤں۔ گویا فتنے کی اضافت سبب کی طرف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 680 سے ماخوذ ہے۔