الادب المفرد
كتاب صلة الرحم— كتاب صلة الرحم
بَابُ لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ باب: برابری کی سطح پر حسن سلوک کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَفِطْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سُفْيَانُ لَمْ يَرْفَعْهُ الأَعْمَشُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَهُ الْحَسَنُ وَفِطْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو برابر سرابر معاملہ کرتا ہے، صلہ رحمی کرنے والا تو درحقیقت وہ ہے کہ جس سے تعلق توڑا جائے تو وہ پھر بھی صلہ رحمی کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے اور صلہ رحمی کرنے کو صلہ رحمی شمار نہیں کیا بلکہ اسے صرف بدلہ کہا ہے۔ لیکن افسوس آج ہمیں یہ صورت بھی مفقود نظر آتی ہے۔ قطع تعلقی و بائی مرض بن چکا ہے، ایک فریق قطع تعلقی کرتا ہے تو دوسرا توڑنے کے لیے پہلے تیار ہوتا ہے۔ صلہ رحمی صرف مفادات تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بہن بھائیوں کے بھی اگر ایک دوسرے سے مفادات وابستہ ہیں تو تعلقات بحال ہیں، بصورت دیگر بعد المشرقین کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔
(۲) ’’جو تجھ سے توڑے اس سے جوڑ‘‘ یہ جملہ بہت معنی خیز ہے اور یہ کام نہایت مشکل ہے۔ لیکن جتنا یہ کام مشکل ہے اتنا ہی اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔ موج دریا میں دوسری موجوں کے ساتھ ہی کوئی حیثیت رکھتی ہے بیرون دریا اس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ انسان کی زندگی خوبصورت تبھی ہوسکتی ہے جب اس کے عزیز و اقارب اس کے ساتھ ہوں۔ انسان جتنا باکمال ہو اگر رشتہ داروں سے کٹ جائے تو اس کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ معاشرے میں انہی لوگوں کو عزت ملتی ہے جو عزیز و اقارب کی غلطیوں کو دفن کر دیتے ہیں اور ان کی برائیوں اور بد سلوکیوں کی وجہ سے اپنی خیر کو روک نہیں لیتے۔ اللہ کے ہاں بھی ایسے ہی لوگوں کا مقام ہے۔
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے اور صلہ رحمی کرنے کو صلہ رحمی شمار نہیں کیا بلکہ اسے صرف بدلہ کہا ہے۔ لیکن افسوس آج ہمیں یہ صورت بھی مفقود نظر آتی ہے۔ قطع تعلقی و بائی مرض بن چکا ہے، ایک فریق قطع تعلقی کرتا ہے تو دوسرا توڑنے کے لیے پہلے تیار ہوتا ہے۔ صلہ رحمی صرف مفادات تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بہن بھائیوں کے بھی اگر ایک دوسرے سے مفادات وابستہ ہیں تو تعلقات بحال ہیں، بصورت دیگر بعد المشرقین کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔
(۲) ’’جو تجھ سے توڑے اس سے جوڑ‘‘ یہ جملہ بہت معنی خیز ہے اور یہ کام نہایت مشکل ہے۔ لیکن جتنا یہ کام مشکل ہے اتنا ہی اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔ موج دریا میں دوسری موجوں کے ساتھ ہی کوئی حیثیت رکھتی ہے بیرون دریا اس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ انسان کی زندگی خوبصورت تبھی ہوسکتی ہے جب اس کے عزیز و اقارب اس کے ساتھ ہوں۔ انسان جتنا باکمال ہو اگر رشتہ داروں سے کٹ جائے تو اس کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ معاشرے میں انہی لوگوں کو عزت ملتی ہے جو عزیز و اقارب کی غلطیوں کو دفن کر دیتے ہیں اور ان کی برائیوں اور بد سلوکیوں کی وجہ سے اپنی خیر کو روک نہیں لیتے۔ اللہ کے ہاں بھی ایسے ہی لوگوں کا مقام ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 68 سے ماخوذ ہے۔