الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دَعَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ : ”اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“، قَالَ شُعْبَةُ : فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : كَانَ أَنَسٌ يَدْعُو بِهِ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: ”اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر قتادہ رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے لیکن اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
دنیا میں ’’حسنة‘‘ سے مراد ہر وہ اچھائی ہے جو خوش کن اور باعزت زندگی کے لیے ضروری ہو۔ جیسے مال داری، صحت و عافیت اور خوبصورت و سیرت بیوی وغیرہ۔ اسی طرح آخرت کی ہر نعمت جیسے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رحمت وغیرہ۔
’’آگ کے عذاب سے بچا‘‘ یعنی ایسے اعمال سے بچالے جو آگ کا باعث بنیں اور دوزخ میں جانے کا سبب ہوں۔ نیز یہ روایت مرفوعاً بھی صحیح ثابت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات راوی نے اس کے مرفوع ہونے کا ذکر نہیں کیا۔
دنیا میں ’’حسنة‘‘ سے مراد ہر وہ اچھائی ہے جو خوش کن اور باعزت زندگی کے لیے ضروری ہو۔ جیسے مال داری، صحت و عافیت اور خوبصورت و سیرت بیوی وغیرہ۔ اسی طرح آخرت کی ہر نعمت جیسے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رحمت وغیرہ۔
’’آگ کے عذاب سے بچا‘‘ یعنی ایسے اعمال سے بچالے جو آگ کا باعث بنیں اور دوزخ میں جانے کا سبب ہوں۔ نیز یہ روایت مرفوعاً بھی صحیح ثابت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات راوی نے اس کے مرفوع ہونے کا ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 677 سے ماخوذ ہے۔