الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ دَعَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ بِلالِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أَنْتَفِعُ بِهِ ، قَالَ : ”قُلِ : اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي ، وَبَصَرِي ، وَلِسَانِي ، وَقَلْبِي ، وَشَرِّ مَنِيِّي“، قَالَ وَكِيعٌ : مَنِيِّي يَعْنِي : الزِّنَا وَالْفُجُورَ .سیدنا شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جس سے میں نفع حاصل کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ عَافِنِي مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَلِسَانِي، وَقَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي» ”تم یہ دعا کیا کرو: اے اللہ! مجھے میرے کانوں، میری آنکھوں، میری زبان اور میرے دل کے شر سے عافیت دے۔ اور میری منی کے شر سے مجھے بچا۔“ وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: ”منی کے شر سے“ مراد زنا اور بدکاری ہے، یعنی زنا میں واقع ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(۱)کانوں کا شر یہ ہے کہ انسان ان کے ذریعے سے غیبت سنے یا جھوٹ اور فسق وفجور کی باتیں سنے اور آنکھوں کی خیانت اور ان کا حرام دیکھنا ان کا شر ہے اور بد زبانی زبان کا شر ہے اور دل کا شر کفر والحاد اور شرک ہے۔ ان سب باتوں سے جو انسان بچ جائے وہ ہر قسم کے شر سے محفوظ ہوگیا۔
(۲) منی کا شر یہ ہے کہ اس کے غلبے کی وجہ سے انسان بدکاری میں پڑ جائے یا دیگر معصیت اور نافرمانی کے کام کر بیٹھے۔
(۳) بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے آپ سے تعوذ، یعنی پناہ کے کلمات سکھانے کو کہا تو آپ نے درج بالا دعا سکھائی۔