الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ باب: جو اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے وہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ صُبَيْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ.“ ¤ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْخُوزِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ يَغْضَبْ عَلَيْهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہوتا ہے۔“ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس سے نہ مانگے وہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)دعا کرنا عبادت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِیْنَ﴾ (المومن:۶۰)
’’بلاشبہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ جلد ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
مفسرین نے عبادت کے معنی دعا کیے ہیں۔ کیونکہ آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ سے دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے جس قدر زیادہ مانگا جائے وہ اسی قدر زیادہ خوش ہوتا ہے اس لیے انسان کا کوئی دن دعا سے خالی نہیں گزرنا چاہیے۔
(۲) نہ مانگنے پر اللہ تعالیٰ ایک تو اس لیے ناراض ہوتا ہے کہ یہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کرنا دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو وہ شخص متکبر ہے کہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے یا پھر اللہ تعالیٰ سے مایوس ہے اور یہ دونوں باتیں اللہ کے غضب کا باعث ہیں۔
(۱)دعا کرنا عبادت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِیْنَ﴾ (المومن:۶۰)
’’بلاشبہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ جلد ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘
مفسرین نے عبادت کے معنی دعا کیے ہیں۔ کیونکہ آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ سے دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے جس قدر زیادہ مانگا جائے وہ اسی قدر زیادہ خوش ہوتا ہے اس لیے انسان کا کوئی دن دعا سے خالی نہیں گزرنا چاہیے۔
(۲) نہ مانگنے پر اللہ تعالیٰ ایک تو اس لیے ناراض ہوتا ہے کہ یہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کرنا دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو وہ شخص متکبر ہے کہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے یا پھر اللہ تعالیٰ سے مایوس ہے اور یہ دونوں باتیں اللہ کے غضب کا باعث ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 658 سے ماخوذ ہے۔