حدیث نمبر: 654
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ وَأَهْلِ الْفِقْهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ ، يَقُولُ : دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے، وہ کہتا ہے: میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 654
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الدعوات : 6340 و مسلم : 2735 و أبوداؤد : 1484 و الترمذي : 3387 و ابن ماجة : 3853»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)دعا اگر معصیت اور قطع رحمی کی نہ ہو اور اس کی قبولیت میں کوئی شرعی رکاوٹ بھی نہ ہو تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کی قبولیت کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں مثلاً وہ چیز نہ ملے، اس کے متبادل بہتر مل جائے یا دعا کا صلہ مؤخر کر دیا جائے یا کوئی مصیبت اس کے ذریعے سے ٹال دی جائے یا قیامت کے دن کے لیے اس کا ثواب ذخیرہ کر لیا جائے، وغیرہ۔ اس لیے انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
(۲) دعا کے آداب میں درج زیل امور کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔
٭ حضور قلب کے ساتھ محتاج بن کر مانگا جائے۔
٭ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے۔
٭ اسمائے حسنیٰ اور اعمال صالحہ کے وسیلے کے ذریعے سے دعا کی جائے۔
٭ غیر شرعی طریقے، مثلاً چیخ و پکار وغیرہ سے اجتناب کیا جائے اور حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔
٭ قطع رحمی کی دعا نہ ہو اور نہ کسی کا حق دبانے ہی کی دعا ہو۔
٭ محکم یقین کے ساتھ مانگا جائے اس طرح کہ ضرور لینا ہے۔
٭ مقصد کے حصول کی تأخیر کی صورت میں مایوسی کا اظہار نہ کیا جائے۔
٭ قبولیت دعا کی مخصوص گھڑیوں اور دلی رجحان کے وقت کو غنیمت سمجھا جائے۔
٭ دعا کے ساتھ ساتھ جائز ذرائع بھی استعمال کیے جائیں۔
٭ مایوس ہوکر دعا کرنا چھوڑا نہ جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 654 سے ماخوذ ہے۔