حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ الأَشْجَعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كُنَّا نَغْدُو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقُولُ إِذَا صَلَّيْتُ ؟ فَيَقُولُ : ”قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي ، فَقَدْ جَمَعَتْ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ.“ ¤ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، وَلَمْ يَذْكُرْ : إِذَا صَلَّيْتَ . وَتَابَعَهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جایا کرتے تھے، کبھی کوئی مرد آ جاتا اور کبھی عورت آتی، اور وہ کہتے: اے اللہ کے رسول! میں نماز پڑھوں تو کیسے دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم یوں کہو: اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما، یوں تیرے لیے دنیا و آخرت کی خیر جمع ہو گئی۔“ ابو مالک کے طریق سے بھی سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔ عبدالواحد اور یزید بن ہارون نے بھی نماز کے ذکر کے بغیر بیان کیا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الذكر و الدعاء : 2697 و ابن ماجه : 3845 - انظر الصحيحة : 1318»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عربی زبان سے خوب واقف تھے۔ وہ اپنے الفاظ میں دعا کرسکتے تھے لیکن وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھتے تھے کہ تاکہ جامع دعائیں سیکھ سکیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو رسول اکرم کی پیروی کرنی چاہیے اور ہر کام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 651 سے ماخوذ ہے۔