الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ ذُكِرَ عِنْدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ باب: جس کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو، اور اس نے درود نہ پڑھا، اس کا وبال
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ ، عَنْ عِصَامِ بْنِ زَيْدٍ ، (وَأَثْنَى عَلَيْهِ ابْنُ شَيْبَةَ خَيْرًا)، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَى الْمِنْبَرَ ، فَلَمَّا رَقَى الدَّرَجَةَ الأُولَى ، قَالَ : ”آمِينَ“، ثُمَّ رَقَى الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : ”آمِينَ“، ثُمَّ رَقَى الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : ”آمِينَ“، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْنَاكَ تَقُولُ : ”آمِينَ“ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ؟ قَالَ : ”لَمَّا رَقِيتُ الدَّرَجَةَ الأُولَى جَاءَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : شَقِيَ عَبْدٌ أَدْرَكَ رَمَضَانَ ، فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، ثُمَّ قَالَ : شَقِيَ عَبْدٌ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يُدْخِلاهُ الْجَنَّةَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، ثُمَّ قَالَ : شَقِيَ عَبْدٌ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ.“سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ جب پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ پھر دوسری پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین“، پھر تیسری پر چڑھے تو فرمایا: ”آمین۔“ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو تین مرتبہ ”آمین“ کہتے ہوئے سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں پہلی سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا، پھر وہ گزر گیا اور اس کی بخشش نہ ہوئی، تو میں نے کہا: آمین۔ پھر کہا: بدنصیب ہے وہ بندہ جس نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کو پایا اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کرایا، تو میں نے کہا: آمین۔ پھر کہا: کم بخت ٹھہرا وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر ہوا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا۔ میں نے کہا: آمین۔“